تازہ ترین
ڈی ای او سوات کے تعلیمی اداروں کی کڑی نگرانی کا سلسلہ جاری۔ گورنمنٹ پرائمری سکول وچ خوڑنویکلے کا تمام عملہ معطل ،مڈل سکول وچ خوڑ نویکلے کے ہیڈ ماسٹر کی سرزنش خیبر پختونخوا حکومت کے جانب سے اقبال ڈے پر چھٹی بر قرار رکھنے کا فیصلہ۔۔ تمام تعلیمی ادارے بند رہینگے۔ ڈی ڈی ای او سوات نومبر کو اقبال ڈے پر چھٹی نہیں ہوگی دفاتر اور اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ڈپٹی ڈی ای او سوات ذولفقار الملک احسان خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری سکولوں میں نیا سکول یونیفارم متعارف کرانے کی غرض سے منگل کے دن پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک روزہ مشاورتی سیمینار منعقد ایس ای ڈی مڈل اینڈ پرائمری سکولز سپورٹس ایونٹ حافظ ڈاکٹرمحمد ابراہیم سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ای او تعینات، پہلے ہی دن کئی سکولوں کا دورہ، بچوں کے یونفارم پر شدید برہمی کا اظہار آواز استاد عوام ،والدین اور بالخصوص اساتذہ تک پہچانے کےلئےسوات ایجوکیشن اردووویب سائٹ

کیونکہ تعلیم اور کھیل لا زم وملز وم ہیں.

(4جون 2015)ایسی سر گر میاں جو مسرت ، تفریح ، تعا ون ، موزونیت کے حصول، ذہنی ، روحا نی ، معا شرتی اور جسما نی صحت کی تر قی کیلئے سرا نجام دی جا ئیں این سپورٹس (کھیل ) کہا جا تا ہے ۔ سکول میں بچے کو تعلیم کے سا تھ سا تھ سپورٹس کی سر گر میاں کر وا نا بھی لا زمی ہیں ۔ کیونکہ تعلیم اور کھیل لا زم وملز وم ہیں ۔مغربی ما ہرین تعلیم کے علا وہ مسلم ما ہر ین تعلیم بھی ان دو نوں کو علیحد ہ نہیں کر تے ۔ اسیلئے امام غزالی کا قول ہے کہ پڑھا ئی ،پڑ ھا ئی ہر وقت پڑ ھائی بچوں کو کند ذہین بنا تی ہے ۔ دلچسپی وتو جہ کو کم کر تی ہے بیزار ی اور اکتا ہٹ پیدا کر تی ہے ۔ جس سے وہ تعلیم سے با غی بھی ہو سکتے ہیں ۔ بچے کو پڑھا ئی کے دوران یا در میان میں کھیل کو د کا مو قع دیا جا ئے تاکہ اوہ تا زہ دم ہو سکتے اور با قی کا م کو خو ش ولی سے پور ا کر ے۔اسلئے سکولوں میں کھیل کود (تفریح ) کا پیرڈ رکھا جا تا ہے ۔ اس پیرڈ میں بچے کھیل کود میں حصہ لے کر کھیل کے میدانو ں کو آبا د کر تے ہیں ۔ کیونکہ کھیلو ںکے میدان میں زندگی کا عکس ہو تا ہے ۔ یعنی ہنر ومہارت ، تیز ی ، چُستی ،محنت وکوشش ، لیڈ ر شب ، قوانین کا احترام ، حیف وحریف کا او ر تما شا ہوں کا احترام اپنی مر تبہ کے مطا بق عمل معا شر تی زندگی کی کنجی ہے ، ہی وجہ ہے ۔کہ دنیا میں ترقی یا فتہ اقوام کے کھیل کے میدانیں آباد ہو تے ہیں اور ایک ماہر تعلیم کی مکا بق جس قوم کے کھیلوں کے میدان اور پا رک آباد ہو تے ہیں ان کو ہسپتال اتھا نے اور جیلیس ویران ہو تی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ کہ قو میںتعلیم سے نبتی ہیں ۔ تعلیم کو تعمیر قوم پر و گرام کہتے ہیں اور معلم کو معمار قوم اور ضمیر قوم کہتے ہیں ۔ تعلیم وہ کچھ سکھلا تی ہے ۔جس کی ملک وقوم کو اشد ضرو رت ہو تی ہے ۔ آج کا بچہ کل کا معلم پرو فیسر سا ئنسدان ، ڈاکٹر ، سر جن ، قانون دان ، کار خانہ دا ر ، تا جر ، سیا سدان ، معما ر اور کسان وغیرہ ہو گا ۔ قوم کو ان سب کی ضرو رت ہے ہمیشہ خواہ کوئی بھی ہو ابن آدم کو اچھا انسان ہو نا چا ہیئے ۔ یعنی وی حق پرست ہو ، ذمہ دا ر ہو ا قا بل اعتماد ہو ،انسانی خدمت کا جذبہ رکھتا ہو اور یہ سب صفا ت کھلا ڑی کھیل کے میدان میں سکھتا ہے ۔اور یہ وہی صفات ہیں جس سے دنیا کا نظام دوان دوان اچھا انسان بنا نا عام تعلیم کا خاص مقا صد میں ایک مقصد ہے ۔اور یہ مقصد کھیل کے میدان سے حاصل ہو تا ہے ۔ میرے خیال میں تعلیم کا علمی نا م سپورٹس (کھیل ) ہے ۔دنیا کے اکثر مما لک میں تعلیم جسما نی کے مضمون کو لا زمی مضمون کی حثیت حاصل ہے بد قسمتی سے ہما رے ملک میں تعلیم جسما نی کے مضمون کو غیر لا زمی قرا ر دیا کیا ہے ۔ لیکن پھر بھی اس کو تم انصا بی سر گر میاں کہا جا تا ہے ۔ جس کے نتیجے میں ہر سال مختلف سکولوں ، کا لجوں ، بو رڈوں ، اور یونیور سٹیوں کے در میان کھیل کی مختلف سر گر میوں کے مقا بلے منعقد ہو تے ہیں ، جس کی وجہ سے قوم کو بہتر ین کھلا ڑی سیر ہو تے ہیں ۔ اور بچوں کے پو شیدہ خدادا ر صلا حتیں ظا ہر ہو تے ہیں ۔ان مقا بلوں میں جیسے والے بچوں کو اسنا د دئے جا تے ہیں ۔ اور یہ اسنا دان کے کا لجوں اور یو نیو ر سٹوں میں داخل لیتے وقت بہت اہم رول آداکر تے ہیں ۔ ہمارے یہ بات خوش آیند ہے کہ وطن عزیز کے تقریناََ ہر محکمے میں کھیلوں کی بنیا دی پر آ سامیاں ہو تی ہیں ۔ اور کھیلوں کی وجہ سے تو جہ انانِقوم عملی زندگی میں بہترین روز گا ر حاصل کر تے ہیں ۔ضلع سوا ت کے صرف و الی بال کھیلا ڑی جنو بوں نے ضلعی سپورٹس ٹور نامنٹ سکولز میں پہلی پو زیشن حاصل کی ۔ اور صو بائی سطح پر ضلع سوا ت کی نما ئید گی کی ۔ ان کو وطن عزیز کے مختلف اداروں نے ملا زمت دی -


Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home/sededupk/public_html/news/inc/header.php:111) in /home/sededupk/public_html/news/post.php on line 43