تازہ ترین
ڈی ای او سوات کے تعلیمی اداروں کی کڑی نگرانی کا سلسلہ جاری۔ گورنمنٹ پرائمری سکول وچ خوڑنویکلے کا تمام عملہ معطل ،مڈل سکول وچ خوڑ نویکلے کے ہیڈ ماسٹر کی سرزنش خیبر پختونخوا حکومت کے جانب سے اقبال ڈے پر چھٹی بر قرار رکھنے کا فیصلہ۔۔ تمام تعلیمی ادارے بند رہینگے۔ ڈی ڈی ای او سوات نومبر کو اقبال ڈے پر چھٹی نہیں ہوگی دفاتر اور اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ڈپٹی ڈی ای او سوات ذولفقار الملک احسان خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری سکولوں میں نیا سکول یونیفارم متعارف کرانے کی غرض سے منگل کے دن پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک روزہ مشاورتی سیمینار منعقد ایس ای ڈی مڈل اینڈ پرائمری سکولز سپورٹس ایونٹ حافظ ڈاکٹرمحمد ابراہیم سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ای او تعینات، پہلے ہی دن کئی سکولوں کا دورہ، بچوں کے یونفارم پر شدید برہمی کا اظہار آواز استاد عوام ،والدین اور بالخصوص اساتذہ تک پہچانے کےلئےسوات ایجوکیشن اردووویب سائٹ

کا ش میں دوسری جماعت کا طالب العلم ہو تا

تحریر : فضل غفور با چا S.P.E.T گور نمنٹ ہا ئیر سیکنڈری سکول منگورہ حاجی بابا ریاست سوات کے دور حکو مت میں فٹ بال میچوں کا آنکھوں دیکھا حال ہا ئی سکول منگورہ ہائی سکول سید و شریف ، کبل ،مٹہ ،خوا زہ خیلہ ،گا گرہ ، گد یزی ، طو تا لئی ، مدین ،بریکوٹ وغیرہ کے ٹیمیں آپس میں مقابلے کر تے تھے ۔ ایک دن ہا ئی سکول گا گرہ کی فٹ بال ٹیم سفید رنگ کی قمیص اور کا لے رنگ کے نیکر میں میدان میں نکل آئے ۔ جبکہ کچھ کھلاڑیوں کے پاﺅں میں بو ٹس بھی نہ تھے ۔اور دوسرے طرف ہائی سکول سیدو شریف جو کہ آجکل ودودیہ کا نام سے مشہور ہیں ۔کوندِل خان کی کپتا نی میں کا لے رنگ کے قمیص ور نیکر قمیص پر بڑا سا چاند وتا را تھا ہوں کی گوبچ میں نکل آئے ۔ہائی سکول گا گرہ کے ٹیم نے احتجاج کیا کہ ہمارے کھلاڑیوں کے بو ٹس نہیں جبکہ مخالف ٹیم کے کھلا ڑیوں کے بو ٹس ہیں ۔ ریفری اوکمیٹی نے اُن کو چپل میں کھیلنے کی اجا زت دیدی اورہا ف ٹیم تک ہا ئی سکول گا گرہ پر تیرہ گول ہو ئے تھے ۔ جب کبھی گا گرہ کی کھلا ڑی کِک لگا تے تو فٹ بال ایک طرف اور چپل دو سری طرف ہو ا میں لہرائی جا تی تھی ۔ اور پھر یہ مشہو ر ہو ا ! بعد میں جس ٹیم پر زیادہ گول ہو تے تو یہ ایک مثال بن گیا ،، کہ گا گرہ ہے ،، اس سے میرا مراد یہ ہے کہ اُس دور میں کھلا ڑیوںکو اتنی سہو لت بھی میسرنہ تھی جب کہ اجکل اتنی سہو لیا ت کے با وجود کھیلوں کا یہ حال ہے۔اس سال سوات بور ڈ کے زیہ احتما م گرا سی گرا ونڈ میں فضل غفور با چا S.P.E.T GHSS منگورہ کے زیر نگرانی گور نمنٹ ہا ئی سکول گد یزی بوینر اور جہا نزیب کا لج سوات کے درمیان فٹ بال کا مقا بلہ ہو ا ۔جس میں گدیز ی کی سکول نے جہا نزیب کا لج کو صفہ کے مقا بلہ میں پا نج گو ل سے شکست دیگر انٹر بورڈ ٹو رنا منٹ جیت کیا ۔ اور کھیل کے دو ران شا یقین فٹ بال میں سے گلد نا نے نا می شخص جو کہ فٹ بال کا پُرانا مرا ح ہے ۔ چیخ چیخ کر پکا ر رہے تھے کہ جہا نزیب کا لج سے تو گا گرہ بن گیا ۔ جس پر تمام بو نیر والے ہنس رہے تھے ۔آخر کا ر ہا ئی سکول سید و شریف اور ہا ئی سکول منگورہ جو کہ بنٹر کے نام سے مشہو ر ہیں فا ئنل کے لئے میدان میں نکلے ۔ ہا ئی سکول منگورہ بنڑ کی قیا دت سکندر حیا ت خان کر رہے رتھے جبکہ سید و شریف کی ٹیم کی قیا دت کو ندِل خان کہ رہے تھے ۔ چا ر دن تک کا نٹہ دا ر مقا بلہ ہو ا لیکن کو ئی ٹیم ہا ر تسلیم نہیں کر تی ۔ جنا ب شا ہی رو م خان جو کہ ہا ئی سکول منگورہ کے ہیڈ ما سٹر تھے اور جنا ب حُسین خان (مر حوم ) سید وشریف کے ہیڈ ما سٹر تھے ۔ہر وقت مقا بلے کے لئے تیار رہتے ۔ بات وا لی سوا ت تک جا پہنچی ۔ والی سوات نے اُس وقت کے مشیرا علٰی جنا ب سیف الملوک صاحب کو ر یفری کے فرا ئض انجام دینے کا حکم دیا ۔ کہ کل گیارہ بجے دو نوں ٹیموں کے در میان مقا بلہ ہو گا ۔عبد الحمید خان تھا نیدار (مر حوم )اپنے نفری کے ہمرا ہ گرا ونڈمیں داخل ہو ئے ۔ منگور ہ اور سید و شریف کے تمام کا رو بار بند ہو ا ۔ اور تمام طلبا ءاور لوگ گرا سی گراونڈ کی طرف رو انہ ہو ئے ۔ عثمان خان (مر حوم )جو کہ نشا ط ہو ٹل کے مالک تھے سا ونڈ سسٹم کے تمام انتظا مات اُن کے ذمے تھے ۔سیدو شریف کی طرف سے جیتے گا بھئی جیتے گا سیدو شریف جیتے گا سید و شریف جیتے گا نعرے لگا تے ہو ئے ہا ئی سکول سید و شریف کا ٹیم نمودار ہو ا جبکہ دوسری طرف جیتے گا بھئی جیتے گا نوںکی گو نج میں ہا ئی سکول منگو ر ہ کی ٹیم نمودار ہو ا ۔جب ریفری میدان میں نکلے تو یہ گا نا شروع ہوا ۔( زہ انتظار کومہ ستادہ سترگو ،۔ والے پنا ہ شوے تہ زما دستر گو) کھیل شرو ع ہو ا تو ایک طرف سکندر حیات اور د وسری طرف محمد شیرین سیسہ پھیلا ئی دیوا ر کی طرح ایک دو سری کے حملے پسپا کر تے تھے ۔ کو ندِل خان اور بنڑ کا ایک کھلاڑی جو کہ مجے کے نام سے مشہور ہے ایک دو سری پر حملے کر تے تھے ۔ عبدالودود (وکیل ) اور اسمعیل (مر حوم ) گول کیپر تھے ۔ جو کہ اس وقت کے مشہو ر گولی کیپر تھے گول بچا نے کے لئے سر تو ڑ کو شش کو رہے تھے ۔منگورہ کی طرف سے ننگر و ٹیم ھئی ھئی کی آواز بلند ہو ا ۔ جبکہ سیدو شریف کی طرف ت ترو والا ھئی کی آواز یں بلند ہو تی ۔آخر کا ر آخر وقت میں منگورہ کی ٹیم نے سید و شریف کی خلا ف ایک گول کر کے فا ئیل جیت لیا ۔میرا والد صا حب جو کہ اس وقت ہائی سکول منگورہ میں استاد تھے ۔ اتنے خوش تھے کہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ اور سچ تینوں بھا ئی جو کہ سید و شریف کے طا لب العلم تھے اتنے پر شیا ن تھے کہ رات کی رو ٹی تک نہیں کھا ئی ۔ ایسا مقا بلہ میری زندگی میں ابھی تک نہیں ہو ا ۔ کیو نکہ ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ آخر میں صدر پا کستا ن محمد ایوب خان نے اپنے دست مبارک پر گرا سی گرا ونڈ میں انعا ما ت تقسیم کئے ۔ جناب والی سوا ت کھیلوں سے اتنا محبت رکھتے تھے ۔ کہ کا لج ٹیم کو اپنی در با ر میں بلا کر اُن کو دعو ت دیتے اور اُن کی خوب حو صلہ افزائی کرتے ۔کا ش والی سوات کا دور ہو تا تو ہر طرف کھیل کے میدان ہو تے اور دُنیاکی زیا دہ مقا بلے سوا ت ہی میں ہو تے ۔کیونکہ مجھے خوب یا د ہے کہ ہندو ستان کی ٹیم گرا سی گراونڈ میں فٹ بال میچ کے لئے آئی تھی ۔وہ وقت ابھی بھی مجھ یا د ہے کہ جس طرح بچے آجکل اپنے آپ کو افر یدی ، میا ندا ر ، عمران خان ، کہتے ہیں اس وقت ہم پُرا نے کپڑوں سے فٹ بال بنا کر اپنے آپ کو سکندر حیا ت ، کو ندل خان ، یعقوب خان ، محمدشرین ، مجے ، شرین بہا ر ، احسان اللہ ، شا ہ بخت اور کریم الہا دی کہتے تھے اور اُس پر فخر کر تے ۔اُس وقت بغیر سہو لیا ت کے اُن لو گو ں کو کھیل سے اتنی محبت تھی ۔ اور آج اتنی سہو لیا ت کے با و جو د کھیلوں کا یہی صو رتحال کیوں ۔